Soz-o-Salaam

Pyasi Hai Sakina – Nasir Zaidi 90’s

Recited by Nasir Hussain Zaidi ·

Pyasi Hai Sakina – Nasir Zaidi 90’s

اردو

اۓ مومنوں جب مجلسِ شَبِّیر میں آنا

پیاسی ہے سکینہ ہاۓ پیاسی ہے سکینہ

بچوں کا تمہیں واسطہ یہ بھول نہ جانا

پیاسی ہے سکینہ ہاۓ پیاسی ہے سکینہ

یہ سوچ کے جی کھول کے تم اشک بہانا

پیاسی ہے سکینہ

مجلس جہاں ہوگی وہاں آتی ہے سکینہ

پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہے سکینہ

پیاسی ہے سکینہ

اللّہ کرے آۓ کبھی ایسا زمانہ

ہو شام کے زنداں کی طرف آپ کا جانا

ارے پھٹ جاۓ گا دل دیکھ کے وہ غم کا ٹھکانہ

بے حال ہوئ قبر میں سوتی ہے سکینہ

ارے پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہے سکینہ

پیاسی ہے سکینہ

یوں جانبِ دریا گۓ عباس دلاور

اور دریا سے مشکیزہ بھرا با دِلِ مضطر

دریا کی ہر اک موج یہ کہتی تھی تڑپ کر

ہے تیسرا دن ہاۓ تڑپتی ہے سکینہ

ارے پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہے سیکنہ

پیاسی ہے سکینہ

شام آگئی جب چھانے لگا بن میں اندھیرا

زینب نے کیِا بھائ کے لاشے پہ یہ نوحہ

ارے کیا تم نے سکینہ کو کہیں دیکھا ہے بھیّا

ارے اِک کوزا لیۓ دشت میں آئ ہے سکینہ

ارے پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہے سکینہ

پیاسی ہے سکینہ

جب گیارا مُحَرَّم کو سوُۓ شام سِدھاری

ارے دریا کی طرف دیکھ کے زینب یہ پُکاری

ہاۓ عبّاس نہ مر جاۓ بھتیجی یہ تُمہاری

بے حال میری گود میں سوتی ہے سکینہ

پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہے سکینہ

پیاسی ہے سکینہ

اس طرح سِتَم ڈھاتے ہیں اب ظلم کے بانی

لا کر یہ بھرے کوزے بہا دیتے ہیں پانی

کُچھ اور بھی بڑھ جاتی ہے یوں تشنہ دَہانی

بھائ کی طرف دیکھ کے روتی ہے سَکینہ

پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہے سکینہ

پیاسی ہے سکینہ

آنسوُ ابھی بَچّی کے نہیں پاۓ تھے تھمنے

پھر مار دیا دُرّا کسی اہلِ سِتم نے

سجّاد کو ہر گام رُلایا اِسی غم نے

اِس عُمر میں یہ سختیاں سہتی ہے سکینہ

پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہے سکینہ

پیاسی ہے سکینہ

Roman Urdu

Pyasi hai Sakina pyasi hai Sakina

Spotted a mistake in this kalaam — a wrong line, reciter or spelling? Suggest a correction

Related Kalaam